Pages

Moral Story in urdu || ikhlaqi kahani in urdu

 

Moral Story in urdu
Moral Story in urdu 

ایک عورت سے کھانے میں نمک بہت تیز ہوگیا،جب شوہر کھانے کیلئے بیٹھا تواتنا تیز نمک کھا کہ

فورا طیش میں آگیا،آدمی کیونکہ غریب تھا،چھے ماہ بعد مرغی کا گوشت لاپایا تھا،مگر بیوی نے سالن میں نمک تیز کرکے سارا مزا کرکرا کر دیا،کئی مہینوں سے دال اور سبزی کھا کھا کر اس کی زبان گوشت کھانے کے لیے ترس رہی تھی،مگر بیوی نے نمک تیز کرکے سارا سالن خراب کردیا،اس نے بیوی کو کچھ نہ کہا،اور سالن چپ چاپ کھا لیا،اور کہا کہ یا رب تعالی اگر میری بیٹی سے نمک تیز ہو جاتاتو میں یہ پسند کرتاکہ اسکا شوہر اسے معاف کردے اور میرے جگر کے ٹکڑے کو کچھ نہ کہے میری بیوی بھی توکسی کے جگر کاٹکڑا ہے،کسی ماں باپ کی لاڈلی بیٹی ہے،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تیر ی بندی ہے،اے میرے رب میں تیری خوشنودی کے لئے اسے معاف کرتا ہوں،کچھ عرصہ بعد جب اسکا انتقال ہو گیا،تو ایک اللہ کے بندے نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا؟بھائی تیرے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟اس نے جواب دیا!کہ مجھے اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا گیا اوراللہ تعالی نے مجھے میرے گناہ گنوائے کہ توں نے فلاں فلاں گناہ کیئے،میں نے سمجھ لیا کہ میں اب اپنے ان گناہوں کی وجہ سے جہنم ڈال دیا جاؤں گا،لیکن اللہ تعالی نے آخر میں فرمایا:۔کہ جاؤ میں نے تمہیں صرف اس بناء  پر معاف کیاکہ تم نے اپنی بیوی کو میری بندی سمجھ کر معاف کیا تھاجس دن جب اس سے سالن میں نمک تیز ہوا تھادوستو یاد رکھیں ایک عزت دار شخص اپنی بیوی کو عزت سے نوازتا ہے اور کبھی بھی اس کی عزت و وقار کو نہ خود مجروح کرتا ہے اورنہ کسی دوسرےکو کرنے دیتا ہے،اگر آ پ بھی اپنے رب سے اچھی امید رکھتے ہیں توسب کے ساتھ بھلائی اوراچھائی والا سلوک کریں۔

 

 






مکمل تحریر >>

Amazing Story in Urdu || Ajeeb o Ghareeb Kahani in urdu

Amazing Story in Urdu || Ajeeb o Ghareeb Kahani in urdu

Amazing Story
Amazing Story

یحیی بن اسحاق ایک ماہر طبیب تھاجو خود دوائیں بنایا کرتا تھاایک دن وہ اپنی دکان پر بیٹھا ہوا تھا،

کہ اسکے سامنے سے ایک جنازے کا گزر ہوا،جب جنازے پر اسکی نظر پڑی  تو اسکی زبان سے

باآواز بلند یہ جملہ نکلا،اے میت کے گھر والو!تمہارا یہ آدمی ابھی زندہ ہے لہذا تمہارا اسے دفن کرنا جائزنہیں ہے،

جنازے کے ساتھ چلنے والے لوگو ں نے ایک دوسرے سے کہا اس طبیب کی بات کوئی نقصان دہ تو ہے نہیں،

چلو اسے اپنا مردہ دکھا دیتے ہیں اوراسکا،امتحان بھی لے لینگے،چناچہ لوگوں نے طبیب کو بلایا اور اس سے پوچھا،

تم نے جو بات کہی ہے اب اسے ثابت بھی کرو۔طبیب نے لوگوں سے کہا کہ اس مردے کو گھر واپس لے کر چلو،

گھر پہنچ کرمیت کا کفن نکال کر اسے غسل خانے میں داخل کیا،اور اس پر گرم پانی ڈالنا شروع کردیا اس پانی میں

کچھ دوائیں ڈال کر وہ مردیکو نہلانے لگا،کچھ ہی دیر بعد اس مردے کے جسم کچھ حرکت ہوئی،طبیب خوشی

سے چلا اٹھا اور لوگوں سے کہا مردے کی زندگی کی بشارت قبول کرو اور طبیب نے اسکا علاج جاری رکھا اور

بالاآخر اس مردے کو زندگی مل گئی اور وہ صیحیح ہوگیاجب طبیب سے پوچھا گیا کہ آخر کس بنیاد پر اس نے جنازہ              دیکھ

کر سمجھ لیا کہ وہ زندہ انسان ہے مردہ نہیں ہے تو اس نے بتا یا کہ میں نے دیکھا کہ اس کے پاؤں کھڑے ہیں حالانکہ

مردے کے پاؤں سیدھے ہوتے ہیں اس لئے میں نے اندازہ کر لیا کہ یہ مردہ نہیں ہے اور میرا یہ خیال درست نکلا۔

 

مکمل تحریر >>